نئی دہلی، 18؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکز نے آج اس بات سے انکار کیاہے کہ بہار میں اس نے 200نیل گایوں کو گولی مار کر ختم کرنے کا حکم دیاہے ۔حکومت نے کہا کہ اس نے اس سلسلے میں ریاستوں کو جو ہدایت دی تھی اس میں جنگلی جانوروں کو گولی مارنے کا کہیں بھی ذکر نہیں کیاگیاہے۔ماحولیات و جنگلات کے وزیر انل مادھو دوے نے راجیہ سبھا میں وقفہ سوال میں تکمیلی سوالات کے جواب میں کہاکہ مرکزی حکومت نے بہار میں 200نیل گایوں کو گولی مار کر ختم کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کو معلوم ہے، بہار حکومت نے بھی ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔اس سے پہلے کانگریس کے موتی لال ووہرا نے سوال پوچھتے ہوئے حکومت سے جاننا چاہاتھا کہ جس طرح حکومت کے حکم پر بہار میں 200نیل گایوں کو گولی مار کر ختم کیا گیا، اس سے ہمارے وائلڈ لائف کے تحفظ پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اس پر دوے نے کہا کہ 200نیل گایوں کو گولی مارکرختم کرنے کی خبر ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ سے آئی ہے، لیکن اس کی اب تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔دوے نے کہاکہ جنگلی جانوروں کی وجہ سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے حکومت نے اس سال جنوری میں ریاستوں کے لیے ایک مشاورت جاری کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس میں جنگلی جانوروں کو گولی مار کر ختم کرنے کا کہیں بھی ذکر نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ایک سال مکمل ہونے پر اس مشاورت کا جائزہ لے گی۔گپتا نے بتایاکہ بقرعیدکے بعدہم ان کے گھروں میں دوبارہ جائیں گے جہاں ہم گایوں کا حساب کرنے کے دوران پہلے گئے تھے۔اگرہمیں گائے نہیں ملتی ہیں تو ہم ان سرکاری دستاویزات اور میڈیکل دستاویزات کی جانچ کریں گے جو گایوں کی فروخت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔دستاویزات تسلی بخش نہیں لگنے پر ہم لاپتہ گایوں کے بارے میں ایف آئی آردرج کروائیں گے ۔گپتا نے کہاکہ ہمارے رضاکار جانوروں کوریاست میں لانے اور ریاست سے باہر لے جانے والے تمام راستوں پر سخت نگرانی رکھیں گے۔گپتا نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال عبدالاضحی کے موقع پر ان کی تنظیم نے ہزاروں گایوں کی جان بچائی تھی۔ان کو قتل کرنے کے لیے انہیں غیر قانونی طور پر فروخت کیا جا رہا تھا۔گزشتہ سال دسمبر میں ایک غیر سرکاری تنظیم گؤ کشی کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے گائے کے ساتھ سیلفی کا خیال لے کر آئی تھی ۔